یوم پیدائش 12 سپتمبر 1947
آئنے میں پس منظر کا ابھرنا کیسا
جھیل جیسی تری آنکھوں میں یہ جھرنا کیسا
عمر بھر ساتھ رہو تو کہیں مہکے آنگن
کسی خوشبو کی طرح چھو کے گزرنا کیسا
وہ تو اک خواہش ناکام تھی جو چیخ پڑی
بے سبب اپنی ہی آواز سے ڈرنا کیسا
گرد شیشوں سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے
اندھے آئینوں کے آگے یہ سنورنا کیسا
پھینک دو بار الم کچھ تو سفر آساں ہو
بوجھ لادے ہوئے دنیا سے گزرنا کیسا
اے مرے شور نفس بار سماعت سے گریز
نیند کے وقت صداؤں کا ابھرنا کیسا
گوش امید ہوئے جبکہ صداؤں کے اسیر
فتح پھر کوہ ندا کا ضیاؔ کرنا کیسا
ضیا فاروقی

No comments:
Post a Comment