Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

ضیا فاروقی

 یوم پیدائش 12 سپتمبر 1947


آئنے میں پس منظر کا ابھرنا کیسا

جھیل جیسی تری آنکھوں میں یہ جھرنا کیسا


عمر بھر ساتھ رہو تو کہیں مہکے آنگن

کسی خوشبو کی طرح چھو کے گزرنا کیسا


وہ تو اک خواہش ناکام تھی جو چیخ پڑی

بے سبب اپنی ہی آواز سے ڈرنا کیسا


گرد شیشوں سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے

اندھے آئینوں کے آگے یہ سنورنا کیسا


پھینک دو بار الم کچھ تو سفر آساں ہو

بوجھ لادے ہوئے دنیا سے گزرنا کیسا


اے مرے شور نفس بار سماعت سے گریز

نیند کے وقت صداؤں کا ابھرنا کیسا


گوش امید ہوئے جبکہ صداؤں کے اسیر

فتح پھر کوہ ندا کا ضیاؔ کرنا کیسا


ضیا فاروقی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...