Urdu Deccan

Monday, December 12, 2022

خالد بارہ بنکوی

یوم پیدائش 10 دسمبر 1970

نظر بے باک ہے سارے بدن پر دست کاری ہے 
یہی معیار ہے تیرا کہ یہ غفلت شعاری ہے

تری تصویر شاید اس لئے کچھ اور پیاری ہے 
یہ میری کیمرہ تمثال آنکھوں نے اتاری ہے 

وہ اب بھی ہے جو ہم میں فاصلہ تھا ایک کروٹ کا
ہم اپنے ضبط سے ہارے وہ اپنی ضد سے ہاری ہے 

میں شیشہ ہوں یہ شیشہ گر مرے ٹکڑوں سے پلتے ہیں
مری عادت نہیں ہے ٹوٹ جانا ذمے داری ہے 

اسے پانا نہیں اسکی بھلائی چاہتے ہیں ہم 
کوئی سمجھے محبت ہم نے ہاری ہے تو ہاری 

سمندر دھوپ صحرا اور تم سب ایک جیسے ہو
کسی سے کوئی ہمدردی نہ کوئی غمگساری ہے 

خالد بارہ بنکوی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...