Urdu Deccan

Monday, December 12, 2022

شبانہ زیدی شبین

یوم پیدائش 10 دسمبر 

اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں 
زرد پتوں کو ہواؤں نے گرایا ہی نہیں 

دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم 
ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں 

کیوں ترے واسطے اس دل میں جگہ ہے ورنہ 
کوئی چہرہ مری آنکھوں میں سمایا ہی نہیں 

اس نے بھی مانگ لیا آج محبت کا ثبوت 
ایک لمحے کے لیے جس کو بھلایا ہی نہیں

جس کی خوشبو سے مہکتے مرے گھر کے در و بام 
وقت نے رنگ کوئی ایسا دکھایا ہی نہیں 

روشنی اپنے مقدر میں کہاں ہوگی شبینؔ 
جب دیا ہم نے اندھیروں میں جلایا ہی نہیں

شبانہ زیدی شبین



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...