عشق کا جادو چلا ہے مجھ پہ کوئی دم کرے
ہے یہاں ایسی دوا جو اس مرض کو کم کرے
مسکراؤں جس طرح میں ، مسکرائے اُس طرح
جس طرح میں غم کروں یا اس طرح سے غم کرے
راز دل جتنے چھپائے ہیں کہے تو کھول دوں
سننے والا یار پہلے اپنی آنکھیں نم کرے
اِس نگر کا یار میں بھی رہنے والا ہوں یہاں
لوگ باتیں تو زیادہ کام لیکن کم کرے

No comments:
Post a Comment