Urdu Deccan

Friday, February 24, 2023

نگار سلطانہ

یوم پیدائش 02 فروری 1956

سب سے شکوہ بھی ہمارا وہ کیا کرتے تھے
حق میں جن کے سدا ہم روز دعا کرتے تھے

تیری فرقت میں بہت درد سہا کرتے تھے
روز مرتے تھے صنم روز جیا کرتے تھے

جن کو ماں باپ کی خدمت میں سکوں ملتا تھا
ایسے بچّے بھی زمانے میں ھوا کرتے تھے

اب تو اپنوں کو بھی ملنے کی کہاں ہے فرصت
پہلے وہ جان کے فرصت سے ملا کرتے تھے

اب تو پہلے سے مراسم نہیں ہیں اپنے بھی
یاد آتا ھے کبھی عشق کیا کرتے تھے

آج تو دیکھ کے کترا کے گزر جاتا ہے
ہم مکیں ہیں جو ترے دل میں بسا کرتے تھے

ہم وفا دار نگار آج بھی اس شخص کے ہیں
اب بھی کرتے تھے وفا پہلے کیا کرتے تھے

نگار سلطانہ



عنبر صدیقی

یوم پیدائش 02 فروری 1957

فضا میں ذکرِ آیاتِ ولادت اور ہی کچھ ہے
کلیم اللہ کی شانِ بشارت اور ہی گچھ ہے

ہزاروں فلسفے بدلے ،بنے ،بگڑے زمانے میں
رسولِ ہاشمی کی علم و حکمت اور ہی کچھ ہے

شکم پر باندھ کے پتھر کھلائی غیر کو روٹی
قسیمِ آبِ کوثر کی قناعت اور ہی کچھ ہے

کھجوروں کی چٹائی زیرِ سر ہے ہاتھ کا تکیہ
شہہِ ارض و سما کی بادشاہت اور ہی کچھ ہے

جہاں میں یوں تو آئے ہیں ہزاروں انبیاء لیکن
محمد مصطفے١ کی شان و عظمت اور ہی کچھ ہے

بھلا میں عارضی دنیاں کی خواہش کیوں کروں عنبر
غلامِِ مصطفےٰ ہوں میری چاہت اور ہی کچھ ہے

عنبر صدیقی

 

بدر عالم خلش

یوم پیدائش 02 فروری 1962

ضرورتوں کی ہماہمی میں جو راہ چلتے بھی ٹوکتی ہے وہ شاعری ہے 
میں جس سے آنکھیں چرا رہا ہوں جو میری نیندیں چرا رہی ہے وہ شاعری ہے 

جو آگ سینے میں پل رہی ہے مچل رہی ہے بیاں بھی ہو تو عیاں نہ ہوگی 
مگر ان آنکھوں کے آبلوں میں جو جل رہی ہے پگھل رہی ہے وہ شاعری ہے 

تھا اک تلاطم مئے تخیل کے جام و خم میں تو جلترنگوں پہ چھڑ گئی دھن 
جو پردہ دار نشاط غم ہے جو زخمہ کار نواگری ہے وہ شاعری ہے 

یہاں تو ہر دن ہے اک سونامی ہے ایک جیسی ہر اک کہانی تو کیا سنو گے 
مگر وہ اک خستہ حال کشتی جو مثل لاشہ پڑی ہوئی ہے وہ شاعری ہے 

ہے بادلوں کے سیاہ گھوڑوں کے ساتھ ورنہ ہوا کی پرچھائیں کس نے دیکھی 
دھلی دھلی دھوپ کے بدن پر جو چھاؤں جیسی سبک روی ہے وہ شاعری ہے 

وہی تو کل سرمئی چٹانوں کے درمیاں سے گزر رہی تھی بپھر رہی تھی 
وہی ندی اب تھکی تھکی سی جو ریت بن کر بکھر گئی ہے وہ شاعری ہے 

گھڑی کی ٹک ٹک دلوں کی دھک دھک سے بات کرتی اگر تنفس مخل نہ ہوتا 
تو ایسی شدت کی گو مگو میں جو ہم کلامی کی خامشی ہے وہ شاعری ہے 

جو قہقہوں اور قمقموں سے سجی دھجی ہے اسی گلی سے گزر کے دیکھو 
اندھیرے زینوں پہ سر بہ زانو جو بیکسی خون تھوکتی ہے وہ شاعری ہے 

نہ ہجرتوں کے ہیں داغ باقی نہ اپنی گم گشتگی کا کوئی سراغ باقی 
سو اب جو طاری ہے سوگواری جو اپنی فطرت سے ماتمی ہے وہ شاعری ہے 

ہے لالہ زار افق سے آگے ابھی جو دھندلا سا اک ستارہ ہے استعارہ 
جو ہوگی تیرہ شبی میں روشن وہ کوئی زہرہ نہ مشتری ہے وہ شاعری ہے 

گذشتگانی ہے زندگانی نہ یہ ہوا ہے نہ ہے یہ پانی فقط روانی 
جو واقعاتی ہے وہ ہے قصہ جو واقعی ہے وہ شاعری 

جو حسن منظر ہے کینوس پر وہ رنگریزی نہیں برش کی تو اور کیا ہے 
اب اس سے آگے کوئی نظر جس جہان معنی کو ڈھونڈھتی ہے وہ شاعری ہے 

یہ شعر گوئی وہ خود فراموش کیفیت ہے جہاں خودی کا گزر نہیں ہے 
خودی کی باز آوری سے پہلے جو بے خودی کی خود آگہی ہے وہ شاعری ہے 

جو وارداتی صداقتوں کی علامتیں ہیں حدیث دل کی روایتیں ہیں 
اسی امانت کو جو ہمیشہ سنبھالتی ہے سنوارتی ہے وہ شاعری ہے 

انا کے دم سے ہے ناز‌ ہستی انا کے جلووں کا آئینہ دار ہے ہر اک فن
وہ خود نمائی جو خوش نما ہے مگر جو تھوڑی سی نرگسی ہے وہ شاعری ہے 

جو بات نثری ہے نظریاتی ہے جدلیاتی ہے وہ مکمل کبھی نہ ہوگی 
مگر جو مجمل ہے اور موزوں ہے اور حتمی اور آخری ہے وہ شاعری ہے 

تجارتوں کی سیاستیں اب ادب کی خدمت گزاریوں میں لگی ہوئی ہیں 
جو جی رہا ہے جو گا رہا ہے مشاعرہ ہے جو مر رہی ہے وہ شاعری ہے 

جو دیدہ ریزی بھی جاں گدازی کے ساتھ ہوگی تو لفظ سارے گہر بنیں گے 
خلشؔ یقیناً یہ صرف زور قلم نہیں ہے جو شاعری ہے وہ شاعری ہے

بدر عالم خلش



اقبال متین

یوم پیدائش 02 فروری 1929

کتنے ہی لوگ دل تلک آ کر گزر گئے 
ہم اپنی لاش آپ اٹھا کر گزر گئے 

وہ یورش الم تھی کہ تیری گلی سے ہم 
تجھ کو بھی اپنے جی سے بھلا کر گزر گئے 

اہل خرد فسانوں کے عنواں بنے رہے 
اہل جنوں فسانے سنا کر گزر گئے 

اس احتیاط درد کی وحشت کہ ہم کبھی 
خود کو تری نظر سے چھپا کر گزر گئے 

تو ہی ملا نہ ہم ہی ملے اپنے آپ کو 
سائے سے درمیان میں آ کر گزر گئے 

اب تو بتاؤ ہم کو کہاں جاؤ گے متینؔ 
وہ کون تھے جو آگ لگا کر گزر گئے 

اقبال متین



امتیاز علی گوہر

یوم پیدائش 01 فروری 

دیا جب سے جلا کر رکھ دیا ہے 
ہواوں نے ستا کر رکھ دیا ہے 

کسی کی سرد مہری نے تو دل کے
الاو کو بجھا کر رکھ دیا ہے 

محبت دو دلوں کی تھی کہانی 
تماشا کیوں بنا کر رکھ دیا ہے 

مری پہچان مشکل تو نہیں تھی
کہ آئینہ دکھا کر رکھ دیا ہے 

بکھرتا جا رہا ہوں خود ہی گوہر 
بڑھاپے نے رلا کر رکھ دیا ہے 

 امتیاز علی گوہر



افضل شیر کوٹی

یوم پیدائش 01 فروری 1956

بے تابیِِ دل کو مری تسکین نہیں ہے
کیوں دور مرا آج وہ زرین نہیں ہے

گردوں میں ہر اک سمت ہے کرگس کی اڑانیں
نظروں میں مری کوئی بھی شاہین نہیں ہے

پھولوں کی جگہ اگنے لگے جابجا کانٹے
نرگس نہیں گلزار میں نسرین نہیں ہے

تم لاکھ کردو عدل و مساوات کے دعوے
قرآن سے بڑھ کر کوئی آئین نہیں ہے

بدعات پہ ہم مٹنے لگے دین سمجھ کر
ہوں دین میں بدعات تو پھر دین نہیں ہے

یوروپ پہ تری یورش و یلغار تھی اک دن
ہاتھوں میں ترے آج فلسطین نہیں ہے

کیا دل میں ترے ذوقِ شہادت نہیں افضل
کیوں جامہ ترا خون سے رنگین نہیں ہے

افضل شیر کوٹی



شمیم ساگر

یوم پیدائش 01 فروری 1959

دین و دنیا جو لے کے ساتھ چلے
کامرانی اسی میں سب کی ہے

شمیم ساگر


 

تسنیم عابدی

یوم پیدائش 01 فروری 1961

مرے چارہ گر تجھے کیا خبر، جو عذاب ہجر و وصال ہے 
یہ دریدہ تن یہ دریدہ من تری چاہتوں کا کمال ہے 

مجھے سانس سانس گراں لگے، یہ وجود وہم و گماں لگے 
میں تلاش خود کو کروں کہاں مری ذات خواب و خیال ہے 

وہ جو چشم تر میں ٹھہر گیا وہ ستارہ جانے کدھر گیا 
نہ نشاط غم کا ہجوم اب نہ ہی سبز یاد کی ڈال ہے 

اسے فصل فصل بھی سینچ کر ملا سایہ اور نہ ملا ثمر 
یہ عجیب عشق کا پیڑ ہے یہ عجیب شاخ نہال ہے 

مرا حرف حرف اسی کا ہے مرے خواب خواب میں وہ بسا 
جو قریب رہ کے بھی دور ہے اسے پانا کتنا محال ہے

تسنیم عابدی



شائستہ جمال

یوم پیدائش 01 فروری 

پاس آئی ہوئی منزل کے اجالے دیکھے 
جب بھی لوگوں نے مرے پاؤں کے چھالے دیکھے 

کتنے خوددار تھے کٹ کر نہ گرے قدموں پر 
جتنے سر آپ نے نیزے سے اچھالے دیکھے 

مصلحت نام کو چھو کر نہیں گزری مجھ سے 
میرے ہونٹوں پہ کبھی آپ نے نالے دیکھے 

چاند کو دیکھا کبھی ہم نے ہوائیں چھو لیں 
کس طرح دل کے یہ ارمان نکالے دیکھے 

خواب سے جاگ کے شائستہؔ جب آنکھیں کھولیں 
کتنے الجھے ہوئے حالات کے جالے دیکھے

شائستہ جمال



ڈاکٹر الماس کبیر جاوید

یوم پیدائش 01 فروری 

ہے چشم نم ، مری پازیب چوڑیاں خاموش
اداس اداس ہیں کنگن، تو بالیاں خاموش

کیا ہے کوچ پرندوں نے رت بدلتے ہی
 چمن اداس ہے، پیڑوں کی ڈالیاں خاموش

جہاں پہ اپنی محبت کی جذب ہیں گونجیں
وہ کوہ سار ہیں خاموش، وادیاں خاموش

لباس پہنے ہوئے ،زر نگار کرنوں کا
بلا رہی ہیں پہاڑوں کی چوٹیاں خاموش

نہ جانے پھول نے کیا کان میں کی سرگوشی
کہ ہو گئی ہیں جو یکلخت تتلیاں خاموش

جہاں سے دل میں تو اترا تھا خواب بن کے کبھی
ہیں اب کے سونی وہ آہٹ سے سیڑھیاں خاموش

نہ ساز ہے نہ کوئی سوز ، صحنِ الفت میں
گزر گئی ہیں دسمبر کی سردیاں خاموش 
  
نہ جانے کون مسافر ہے جس کے جانے سے؟
اداس شام ہے گاؤں کی ڈیوڑھیاں خاموش

یہ کس فضا میں لیے جارہی ہو سانس الماس
شکار ہونے کے ڈر سے ہیں ہرنیاں خاموش

ڈاکٹر الماس کبیر جاوید



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...