Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

انیس ناگی

 یوم پیدائش 10 سپتمبر 1939


نظم (میں )

حیات مہمل کی جستجو میں 

سفر زمانے کا کر چکا ہوں 

میں اک جواری کی طرح ساری بساط اپنی لٹا چکا ہوں 

میں آدمی کے عظیم خوابوں کی سلطنت بھی گنوا چکا ہوں 

نہ جیب رخت سفر کا تحفہ لیے ہوئے ہے 

نہ ذہن میرا کسی تصور کا دکھ اٹھانے 

کسی محبت کا بوجھ سہنے کے واسطے اختلال میں ہے 

میں فاتح کی طرح چلا تھا 

جو راستے میں ملے مجھے 

وہ تیغ میری سے کٹ گئے تھے 

میں زائروں کے لباس میں 

قرض خوں بہا کا اتارنے، سر منڈا کے یوں ہی نکل گیا تھا 

کہ لوٹ آؤں گا 

ایک دن 

پھر بتاؤں گا میں حیات مہمل کا راز کیا ہے؟ 

یہ خواب ہے یا خیال ہے؟

میں حیات مہمل کی جستجو میں 

سفر زمانے کا کر چکا ہوں 

میں بے نوا بے گیاہ اور بے ثمر شجر ہوں 

جو سو زمانوں کی دھول میں بے بصر بھکاری کی طرح 

اپنی ہی آستیں میں لرز رہا ہے! 


انیس ناگی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...