یوم پیدائش 11 سپتمبر 1843
دل وہی ہے جس میں وہ دل دار ہے
آنکھ وہ ہے جس میں روئے یار ہے
طالب دیدار سے پردہ نہیں
کیوں حجاب رخ نقاب یار ہے
ہے خطاب اُس رند کا مست الست
جو شراب عشق کا سرشار ہے
رنگ گُل پھیکا ہے جس کے سامنے
اتنا رنگیں یار کا رخسار ہے
ڈھونڈتے ہیں کس کو یہ اہل طلب
وہ تو ہم سب کے گلے کا ہار ہے
یا خدا اکبرؔ کی کشتی کو نکال
تو ہی اس بیڑے کا کھیون ہار ہے
شاہ اکبر داناپوری

No comments:
Post a Comment