یوم پیدائش 11 سپتمبر 1961
شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی
زندہ رہنے کے لیے کوئی بہانہ ہی سہی
خاک کی لوح پہ لکھا تو گیا نام مرا
اصل مقصود ترا مجھ کو مٹانا ہی سہی
خواب عریاں تو اسی طرح تر و تازہ ہے
ہاں مری نیند کا ملبوس پرانا ہی سہی
ایک اڑتے ہوئے سیارے کے پیچھے پیچھے
کوئی امکان کوئی شوق روانہ ہی سہی
کیا کریں آنکھ اگر اس سے سوا چاہتی ہے
یہ جہان گزراں آئنہ خانہ ہی سہی
دل کا فرمان سر دست اٹھا رکھتے ہیں
خیر کچھ روز کو تکمیل زمانہ ہی سہی
ثمینہ راجہ

No comments:
Post a Comment