Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

ثمینہ راجہ

 یوم پیدائش 11 سپتمبر 1961


شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی

زندہ رہنے کے لیے کوئی بہانہ ہی سہی


خاک کی لوح پہ لکھا تو گیا نام مرا

اصل مقصود ترا مجھ کو مٹانا ہی سہی


خواب عریاں تو اسی طرح تر و تازہ ہے

ہاں مری نیند کا ملبوس پرانا ہی سہی


ایک اڑتے ہوئے سیارے کے پیچھے پیچھے

کوئی امکان کوئی شوق روانہ ہی سہی


کیا کریں آنکھ اگر اس سے سوا چاہتی ہے

یہ جہان گزراں آئنہ خانہ ہی سہی


دل کا فرمان سر دست اٹھا رکھتے ہیں

خیر کچھ روز کو تکمیل زمانہ ہی سہی


ثمینہ راجہ


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...