یوم پیدائش 11 سپتمبر 1925
عمر گزری سفر کے پہلو میں
خوب سے خوب تر کے پہلو میں
سانس لیتا ہے ذوق لا محدود
خواہش بام و در کے پہلو میں
شر کو کیا سمجھے یہ غبی مخلوق
شر کہاں ہے بشر کے پہلو میں
خوش نہ ہو آنسوؤں کی بارش پر
برق ہے چشم تر کے پہلو میں
اب ہمیں کیا کوئی سنبھالے گا
ہم ہیں سیلاب زر کے پہلو میں
فرش پر اس نے لی جو انگڑائی
عرش آیا اتر کے پہلو میں
عافیت سے بھی یادؔ خود کو بچاؤ
عافیت ہے خطر کے پہلو میں
مشکور حسین یاد

No comments:
Post a Comment