Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

رئیس امروہوی

 یوم پیدائش 12 سپتمبر 1914


ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

مادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں


پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھر

راستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں


گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہے

میرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں


ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدود

کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں


ان سے محفل میں ملاقات بھی کم تھی نہ مگر

اف وہ آداب جو برتے گئے تنہائی میں


یوں لگا جیسے کہ بل کھا کے دھنک ٹوٹ گئی

اس نے وقفہ جو لیا ناز سے انگڑائی میں


کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم

کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

 

رئیس امروہوی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...