یوم پیدائش 12 سپتمبر
حاصل جاں موت ہے آگے سفر کچھ بھی نہیں
دھند آنکھیں دھند دنیا تا نظر کچھ بھی نہیں
ہر تعلق کا نتیجہ لا تعلق ہے اگر
زندگی پھر تجھ سے پایا عمر بھر کچھ بھی نہیں
صبر ہمت آس جگنو ٹھوکریں دشواریاں
جب سبھی رخت سفر ہیں تو سفر کچھ بھی نہیں
دور میلوں تک چلی ہے میرے قدموں کے تلے
سچ کہوں قدموں سے آگے رہ گزر کچھ بھی نہیں
عکس رخ تیرا ہے شامل ہر نظارے میں مرے
تیرے جلوؤں کے سوا میری نظر کچھ بھی نہیں
بند آنکھیں جب ہوئی سب کچھ نظر آنے لگا
اس قدر غافل ہوں گویا بے خبر کچھ بھی نہیں
رات دن کی گردشیں اور تنہا تنہا زندگی
وقت ایسا ہے شجر جس کا ثمر کچھ بھی نہیں
کیا ہوا کیوں کر ہوا بے جا سوالوں میں ہوں گم
ان سوالوں کے بنا الفتؔ مگر کچھ بھی نہیں
جاوید الفت

No comments:
Post a Comment