Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

جاوید الفت

 یوم پیدائش 12 سپتمبر


حاصل جاں موت ہے آگے سفر کچھ بھی نہیں 

دھند آنکھیں دھند دنیا تا نظر کچھ بھی نہیں 


ہر تعلق کا نتیجہ لا تعلق ہے اگر 

زندگی پھر تجھ سے پایا عمر بھر کچھ بھی نہیں 


صبر ہمت آس جگنو ٹھوکریں دشواریاں 

جب سبھی رخت سفر ہیں تو سفر کچھ بھی نہیں 


دور میلوں تک چلی ہے میرے قدموں کے تلے 

سچ کہوں قدموں سے آگے رہ گزر کچھ بھی نہیں  


عکس رخ تیرا ہے شامل ہر نظارے میں مرے 

تیرے جلوؤں کے سوا میری نظر کچھ بھی نہیں 


بند آنکھیں جب ہوئی سب کچھ نظر آنے لگا 

اس قدر غافل ہوں گویا بے خبر کچھ بھی نہیں  


رات دن کی گردشیں اور تنہا تنہا زندگی 

وقت ایسا ہے شجر جس کا ثمر کچھ بھی نہیں 


کیا ہوا کیوں کر ہوا بے جا سوالوں میں ہوں گم 

ان سوالوں کے بنا الفتؔ مگر کچھ بھی نہیں


جاوید الفت


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...