Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

فانی بدایونی

 یوم پیدائش 13 سپتمبر 1879


دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے


آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں

جو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے


خود جو نہ ہونے کا ہو عدم کیا اسے ہونا کہتے ہیں

نیست نہ ہو تو ہست نہیں یہ ہستی کیا ہستی ہے


عجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت کامل کے جلوے

پستی ہے تو بلندی ہے راز بلندی پستی ہے


جان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میں

آگے مرضی گاہک کی ان داموں تو سستی ہے


وحشت دل سے پھرنا ہے اپنے خدا سے پھر جانا

دیوانے یہ ہوش نہیں یہ تو ہوش پرستی ہے


جگ سونا ہے تیرے بغیر آنکھوں کا کیا حال ہوا

جب بھی دنیا بستی تھی اب بھی دنیا بستی ہے


آنسو تھے سو خشک ہوئے جی ہے کہ امڈا آتا ہے

دل پہ گھٹا سی چھائی ہے کھلتی ہے نہ برستی ہے


دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم

بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے


فانیؔ جس میں آنسو کیا دل کے لہو کا کال نہ تھا

ہائے وہ آنکھ اب پانی کی دو بوندوں کو ترستی ہے


فانی بدایونی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...