یوم پیدائش 10 فروری 1981
میری نظروں کو لبھاتا ہے نظارا کیا کیا
جذبۂ عشق دکھاتا ہے تماشا کیا کیا
دیکھتے ہیں ابھی ہم اُن کے حسیں چہرے کو
اور دکھلائے گا اُن کا رخِ زیبا کیا کیا
میں نے بس ایک نظر اُن کی طرف ڈالی تھی
اور دنیا نے بنا ڈالا فسانہ کیا کیا
اتنی فرصت ہے کسے دھیان جو دے اُس کی طرف
روز ہوتا ہے مرے شہر میں چرچا کیا کیا
کیا سے کیا ہوگیا قسمت کے خفا ہونے سے
سوچتی میں رہی مسرور تمنا کیا کیا
مسرور تمنا
No comments:
Post a Comment