Urdu Deccan

Friday, February 25, 2022

مسرور تمنا

 یوم پیدائش 10 فروری 1981


میری نظروں کو لبھاتا ہے نظارا کیا کیا

جذبۂ عشق دکھاتا ہے تماشا کیا کیا


دیکھتے ہیں ابھی ہم اُن کے حسیں چہرے کو

اور دکھلائے گا اُن کا رخِ زیبا کیا کیا


میں نے بس ایک نظر اُن کی طرف ڈالی تھی

اور دنیا نے بنا ڈالا فسانہ کیا کیا


اتنی فرصت ہے کسے دھیان جو دے اُس کی طرف

روز ہوتا ہے مرے شہر میں چرچا کیا کیا


کیا سے کیا ہوگیا قسمت کے خفا ہونے سے

سوچتی میں رہی مسرور تمنا کیا کیا


مسرور تمنا


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...