تاریخِ پیداٸش 5 مارچ 1996
مرا رستہ مری منزل نہیں ہے
کہیں امید کا ساحل نہیں ہے
میں خود دشمن ہوا دل کے سکوں کا
تو میری جان کا قاتل نہیں ہے
تمھارے ہجر میں گن کر ستارے
میں سو تو جاٶں راضی دل نہیں ہے
کنارا کر رہا ہوں خواہشوں سے
تمھاری ذات جب حاصل نہیں ہے
تمھارے حال سے غافل تو ہے دل
تمھاری یاد سے غافل نہیں ہے
قدیم اللہ قریشی

No comments:
Post a Comment