تم ہمارے اشک مثل آب مت دیکھا کرو
انگلیوں سے چھو کے تم تیزاب مت دیکھا کرو
جو نہ پورے ہو سکے وہ خواب مت دیکھا کرو
باؤلے ہو جاؤگے مہتاب مت دیکھا کرو
جن کو ہم نے بند کرکے خود رکھے ہیں آج تک
تم ہمارے ماضی کے وہ باب مت دیکھا کرو
تم بھی ان میں ڈوب جاؤگے ہماری مان لو
چشمے سے بہتے ہوئے سیلاب مت دیکھا کرو
ہچکچا کر رہ گئے ساحل نشیں ہو جاؤگے
گر شناور بننا ہے گرداب مت دیکھا کرو
بانٹنے ہو ریوڑی تو اک سرے سے سب کو دو
کیسے رشتے دار کیا احباب مت دیکھا کرو
اس جہاں میں ہے فقط ایمان والے قیمتی
ہر کسی کو تم یہاں نایاب مت دیکھا کرو
جب خدا پر ہے یقیں تو مال و زر کیا دیکھنا
جب سفر پر چل پڑے اسباب مت دیکھا کرو
ہے غلط فہمی تیری پرواز وہ مل جائیں گے
تم گدھو کے درمیاں سرخاب مت دیکھا کرو

No comments:
Post a Comment