Urdu Deccan

Sunday, January 10, 2021

ولی عالم شاہین

 

 یوم پیدائش 11 جنوری 1938


میں خامشی کے جزیرے میں ایک پتھر تھا

مگر صداؤں کا ریلا مرا مقدر تھا


نہ جانے کون تھا کس اجنبی سفر پر تھا

وہ قافلے سے الگ قافلے کے اندر تھا


تمام شہر کو اس کا پتہ ملا مجھ سے

وہ آئنے میں تھا پر آئنے سے باہر تھا


وہ جا رہا تھا سمندر کو جھیلنے کے لئے

عرق عرق سر ساحل تمام منظر تھا


کھلا تھا اس کے لئے قصر کا جنوبی در

مگر وہاں کوئی اندر ہی تھا نہ باہر تھا


وہ نرم ریت کے بستر پہ جا کے لیٹ گیا

کھلی جو آنکھ تو چاروں طرف سمندر تھا


گھرا ہوا تھا وہ بد نامیوں کے ہالے میں

حسیں کچھ اور بھی شاہینؔ اس کا پیکر تھا


ولی عالم شاہین


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...