یوم پیدائش 11 جنوری 1938
میں خامشی کے جزیرے میں ایک پتھر تھا
مگر صداؤں کا ریلا مرا مقدر تھا
نہ جانے کون تھا کس اجنبی سفر پر تھا
وہ قافلے سے الگ قافلے کے اندر تھا
تمام شہر کو اس کا پتہ ملا مجھ سے
وہ آئنے میں تھا پر آئنے سے باہر تھا
وہ جا رہا تھا سمندر کو جھیلنے کے لئے
عرق عرق سر ساحل تمام منظر تھا
کھلا تھا اس کے لئے قصر کا جنوبی در
مگر وہاں کوئی اندر ہی تھا نہ باہر تھا
وہ نرم ریت کے بستر پہ جا کے لیٹ گیا
کھلی جو آنکھ تو چاروں طرف سمندر تھا
گھرا ہوا تھا وہ بد نامیوں کے ہالے میں
حسیں کچھ اور بھی شاہینؔ اس کا پیکر تھا
ولی عالم شاہین

No comments:
Post a Comment