یوم پیدائش 12 مارچ 1928
زندگی کاوش باطل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
تو ہی اک عمر کا حاصل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
لوگ ملتے ہیں سر راہ گزر جاتے ہیں
تو ہی اک ہم سفر دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
تو نے سوچا ہے مجھے تو نے سنوارا ہے مجھے
تو مرا ذہن مرا دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
تو نہ ہوگا تو کہاں جا کے جلوں گا شب بھر
تجھ سے ہی گرمئ محفل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
میں کہ بپھرے ہوئے طوفاں میں ہوں لہروں لہروں
تو کہ آسودۂ ساحل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
اس رفاقت کو سپر اپنی بنا لیں جی لیں
شہر کا شہر ہی قاتل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
ایک میں نے ہی اگائے نہیں خوابوں کے گلاب
تو بھی اس جرم میں شامل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
اب کسی راہ پہ جلتے نہیں چاہت کے چراغ
تو مری آخری منزل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
مظہر امام

No comments:
Post a Comment