Urdu Deccan

Friday, March 12, 2021

مظہر امام

 یوم پیدائش 12 مارچ 1928


زندگی کاوش باطل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

تو ہی اک عمر کا حاصل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


لوگ ملتے ہیں سر راہ گزر جاتے ہیں

تو ہی اک ہم سفر دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


تو نے سوچا ہے مجھے تو نے سنوارا ہے مجھے

تو مرا ذہن مرا دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


تو نہ ہوگا تو کہاں جا کے جلوں گا شب بھر

تجھ سے ہی گرمئ محفل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


میں کہ بپھرے ہوئے طوفاں میں ہوں لہروں لہروں

تو کہ آسودۂ ساحل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


اس رفاقت کو سپر اپنی بنا لیں جی لیں

شہر کا شہر ہی قاتل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


ایک میں نے ہی اگائے نہیں خوابوں کے گلاب

تو بھی اس جرم میں شامل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


اب کسی راہ پہ جلتے نہیں چاہت کے چراغ

تو مری آخری منزل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ


مظہر امام


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...