Urdu Deccan

Wednesday, May 12, 2021

محمد حسین آزاد

 یوم پیدائش 05 مئی 1830

نظم محنت کرو


ہے امتحاں سر پر کھڑا محنت کرو محنت کرو 

باندھو کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کرو 

بے شک پڑھائی ہے سوا اور وقت ہے تھوڑا رہا 

ہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کرو 

شکوے شکایت جو کہ تھے تم نے کہے ہم نے سنے 

جو کچھ ہوا اچھا ہوا محنت کرو محنت کرو 

محنت کرو انعام لو انعام پر اکرام لو 

جو چاہو گے مل جائے گا محنت کرو محنت کرو 

جو بیٹھ جائیں ہار کر کہہ دو انہیں للکار کر 

ہمت کا کوڑا مار کر محنت کرو محنت کرو 

تدبیریں ساری کر چکے باتوں کے دریا بہہ چکے 

بک بک سے اب کیا فائدہ محنت کرو محنت کرو 

یہ بیج اگر ڈالوگے تم دل سے اسے پا لو گے تم 

دیکھو گے پھر اس کا مزا محنت کرو محنت کرو 

محنت جو کی جی توڑ کر ہر شوق سے منہ موڑ کر 

کر دو گے دم میں فیصلہ محنت کرو محنت کرو 

کھیتی ہو یا سوداگری ہو بھیک ہو یا چاکری 

سب کا سبق یکساں سنا محنت کرو محنت کرو 

جس دن بڑے تم ہو گئے دنیا کے دھندوں میں پھنسے 

پڑھنے کی پھر فرصت کجا محنت کرو محنت کرو 

بچپن رہا کس کا بھلا انجام کو سوچو ذرا 

یہ تو کہو کھاؤ گے کیا محنت کرو محنت کرو 


محمد حسین آزاد


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...