یوم پیدائش 08 سپتمبر 1911
دیارِ دوست کو جاتے ہیں کارواں اب بھی
دیارِ دوست کا ملتا نہیں نشاں اب بھی
بروئے خاک برھنہ میں ہڈیاں اب بھی
ہر اک بہار پہ ہے حشر کا گماں ابھی
نہ دل کی راکھ کریدو ، حذر کرو اس سے
کہ دل کی راکھ سے بنتی ہیں بجلیاں اب بھی
بلوں میں چیونٹیوں کے امن ڈھونڈنے والو
ہوا کے دوش پہ اک تخت ہے رواں اب بھی
پروفیسر کرار حسین

No comments:
Post a Comment