یوم پیدائش 08 سپتمبر
ضبطِ غم بے بسی سے ٹوٹ گیا
میں خود اپنی خُودی سے ٹوٹ گیا
ذات کی برتری کا سارا غرور
ذات کی آگہی سے ٹوٹ گیا
بےوفائی کا مجھ کو دُکھ نہیں تھا
میں تری بے رُخی سے ٹوٹ گیا
یار ملتے تھے جس کی خاطر سب
وہ کھلونا کسی سے ٹوٹ گیا
ٹوٹتا ہی نہیں تھا وہ پتھر
پر مری شاعری سے ٹوٹ گیا
وہ ستارا تھا آسماں کا سلیم
آپ اپنی خوشی سے ٹوٹ گیا
سلیم تورانیہ

No comments:
Post a Comment