Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

رخسانہ نکہت لاری ام ہانی

 یوم پیدائش 07 سپتمبر 1953


رہے گی داستاں باقی ہے جب تک یہ جہاں باقی 

کہیں باقی ہیں قصہ گو کہیں ہیں رازداں باقی 


عبث ہے فخر اے دل تجربوں کی آزمائش پر 

ابھی فردا کے انسانوں کی خاطر ہیں زماں باقی 


مکیں کتنے ہیں بے دیوار و در کے ان زمینوں پر 

نہیں ہے سر پہ گر سایہ تو کیا ہے آسماں باقی 


خزاں نے کر دیا برباد تیرا گلستاں تو کیا 

ابھی تو اس کی راہوں پر ہیں لاکھوں آشیاں باقی 


نہیں اچھا زبان حال سے آہ و بکا ٹپکیں 

ابھی ماضی کے لب پر ہی ہے کچھ شور فغاں باقی 


فریب وعدۂ فردا بہت ہی عارضی شے ہے 

رہیں گے عمر بھر اس دل پہ چوٹوں کے نشاں باقی 


گلہ تو کر نہ اپنی آبلہ پائی کا رو رو کر 

ہزاروں راستے باقی ہزاروں کارواں باقی 


ابھی سے اس طرح ہانیؔ نہ بیٹھو مطمئن ہو کر 

ابھی تو اور بھی دشوار تر ہیں امتحاں باقی


رخسانہ نکہت لاری ام ہانی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...