یوم پیدائش 07 سپتمبر 1953
رہے گی داستاں باقی ہے جب تک یہ جہاں باقی
کہیں باقی ہیں قصہ گو کہیں ہیں رازداں باقی
عبث ہے فخر اے دل تجربوں کی آزمائش پر
ابھی فردا کے انسانوں کی خاطر ہیں زماں باقی
مکیں کتنے ہیں بے دیوار و در کے ان زمینوں پر
نہیں ہے سر پہ گر سایہ تو کیا ہے آسماں باقی
خزاں نے کر دیا برباد تیرا گلستاں تو کیا
ابھی تو اس کی راہوں پر ہیں لاکھوں آشیاں باقی
نہیں اچھا زبان حال سے آہ و بکا ٹپکیں
ابھی ماضی کے لب پر ہی ہے کچھ شور فغاں باقی
فریب وعدۂ فردا بہت ہی عارضی شے ہے
رہیں گے عمر بھر اس دل پہ چوٹوں کے نشاں باقی
گلہ تو کر نہ اپنی آبلہ پائی کا رو رو کر
ہزاروں راستے باقی ہزاروں کارواں باقی
ابھی سے اس طرح ہانیؔ نہ بیٹھو مطمئن ہو کر
ابھی تو اور بھی دشوار تر ہیں امتحاں باقی
رخسانہ نکہت لاری ام ہانی

No comments:
Post a Comment