Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

ظہور چوہان

 یوم پیدائش 07 سپتمبر 1971


دل سے دیکھوں تو وہی چہرہ نظر آتا ہے

جیسا ہوتا تھا کبھی ویسا نظر آتا ہے


اُس نے دو چار ہی آنسو تو بہائے مرے ساتھ

چلو کوئی تو یہاں زندہ نظر آتا ہے


برف ،جذبوں کی حرارت سے کہیں پگھلی ہے  

اور کہیں جاتا ہوا رستہ نظر آتا ہے 


شام ہوتے ہی اُبھرتے ہیں ترے وصل کے رنگ 

در و دیوار پہ سبزہ سا نظر آتا ہے


اُسکے ہوتے ہوئے پت جھڑ میں بھی کِھلتے ہیں گلاب

کوئی موسم ہو تر و تازہ نظر آتا ہے


اپنی ناکامی سمجھ کر جسے چھوڑ آیا ظہؔور   

کامیابی کا وہی زینہ نظر آتا ہے 


ظہوٓر چوہان


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...