یوم پیدائش 07 سپتمبر 1971
دل سے دیکھوں تو وہی چہرہ نظر آتا ہے
جیسا ہوتا تھا کبھی ویسا نظر آتا ہے
اُس نے دو چار ہی آنسو تو بہائے مرے ساتھ
چلو کوئی تو یہاں زندہ نظر آتا ہے
برف ،جذبوں کی حرارت سے کہیں پگھلی ہے
اور کہیں جاتا ہوا رستہ نظر آتا ہے
شام ہوتے ہی اُبھرتے ہیں ترے وصل کے رنگ
در و دیوار پہ سبزہ سا نظر آتا ہے
اُسکے ہوتے ہوئے پت جھڑ میں بھی کِھلتے ہیں گلاب
کوئی موسم ہو تر و تازہ نظر آتا ہے
اپنی ناکامی سمجھ کر جسے چھوڑ آیا ظہؔور
کامیابی کا وہی زینہ نظر آتا ہے
ظہوٓر چوہان

No comments:
Post a Comment