یوم پیدائش 02 سپتمبر 1959
ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا
سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا
اس دشت سے ہو کر بھی اک سیل انا نکلا
کچھ برگ شجر ٹوٹے کچھ زور ہوا نکلا
الجھن کا سلجھ جانا اک خام خیالی تھی
جب غور کیا ہم نے اک پیچ نیا نکلا
اے فطرت صد معنی غالبؔ کی غزل ہے تو
جب حسن ترا پرکھا پہلے سے سوا نکلا
ہم پاس بھی جانے سے جس شخص کے ڈرتے تھے
چھو کر جو اسے دیکھا مٹی کا بنا نکلا
پھولوں میں ہلالؔ آؤ اب رقص خزاں دیکھیں
کانٹوں کے نگر میں تو ہر باغ ہرا نکلا
ہلال فرید

No comments:
Post a Comment