Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

ہلال فرید

 یوم پیدائش 02 سپتمبر 1959


ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا

سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا


اس دشت سے ہو کر بھی اک سیل انا نکلا

کچھ برگ شجر ٹوٹے کچھ زور ہوا نکلا


الجھن کا سلجھ جانا اک خام خیالی تھی

جب غور کیا ہم نے اک پیچ نیا نکلا


اے فطرت صد معنی غالبؔ کی غزل ہے تو

جب حسن ترا پرکھا پہلے سے سوا نکلا


ہم پاس بھی جانے سے جس شخص کے ڈرتے تھے

چھو کر جو اسے دیکھا مٹی کا بنا نکلا


پھولوں میں ہلالؔ آؤ اب رقص خزاں دیکھیں

کانٹوں کے نگر میں تو ہر باغ ہرا نکلا


ہلال فرید


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...