یوم پیدائش 06 سپتمبر
پھیلا ہر ایک سمت ہے بس اک جہان ہی
نیچے بھی اس زمین کے، ہے آسمان ہی
لڑتے تھے جس کے ساۓ کی تقسیم پر سبھی
حدت بڑھی تو جل گیا وہ سائبان ہی
اوروں کے آنگنوں کی ہوا روکتا تھا جو
آندھی کی زد میں آ گیا ہے وہ مکان ہی
ذھونڈیں گے ورنہ رات کو جنگل میں کوئی غار
ہے روشنی تو باندھ لیں کوئ مچان ہی
گویائی کی یہ شرط ہے ، ان کی کہیں ، تو پھر
اس سے تو ہم بھلے تھے کہیں بے زبان ہی
عجلت میں ہم تو خیر تھے مہمان کی طرح
کچھ دیر روک لیتے ہمیں میزبان ہی
برپا ہے جشن جیت کا تیری گلی میں جو
ہوتا مری شکست کے شایانِ شان ہی
ہیں مسئلے کچھ اور بھی جز عشق ، حل طلب
دیتا نہیں ہے دل مگر اس سمت دھیان ہی
بارِ دگر کرم ہے نظر پھیرنے کے بعد
کافی تھا دل کو آپ کا اک امتحان ہی
ناصرہ زبیری

No comments:
Post a Comment