Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

ناصرہ زبیری

 یوم پیدائش 06 سپتمبر


پھیلا ہر ایک سمت ہے بس اک جہان ہی

نیچے بھی اس زمین کے، ہے آسمان ہی


لڑتے تھے جس کے ساۓ کی تقسیم پر سبھی

حدت بڑھی تو جل گیا وہ سائبان ہی


اوروں کے آنگنوں کی ہوا روکتا تھا جو

آندھی کی زد میں آ گیا ہے وہ مکان ہی


ذھونڈیں گے ورنہ رات کو جنگل میں کوئی غار

ہے روشنی تو باندھ لیں کوئ مچان ہی


گویائی کی یہ شرط ہے ، ان کی کہیں ، تو پھر

اس سے تو ہم بھلے تھے کہیں بے زبان ہی


عجلت میں ہم تو خیر تھے مہمان کی طرح

کچھ دیر روک لیتے ہمیں میزبان ہی


برپا ہے جشن جیت کا تیری گلی میں جو

ہوتا مری شکست کے شایانِ شان ہی


ہیں مسئلے کچھ اور بھی جز عشق ، حل طلب

دیتا نہیں ہے دل مگر اس سمت دھیان ہی 


بارِ دگر کرم ہے نظر پھیرنے کے بعد

کافی تھا دل کو آپ کا اک امتحان ہی 


ناصرہ زبیری


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...