یوم پیدائش 01 سپتمبر 1924
وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے
وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے
پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی
چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے
محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے
وہ دل کی سونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے
یہ خاک آلود جواں چہرے گل جن کی قسمیں کھاتے ہیں
جو آرائش پر مرتا ہو ان کی رعنائی کیا جانے
عارفؔ اپنا راز الفت یوں ہے جیسے منہ بند کلی
یہ بھید زمانہ کیا سمجھے یہ راز خدائی کیا جانے
منظور عارف

No comments:
Post a Comment