Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

منظور عارف

 یوم پیدائش 01 سپتمبر 1924


وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے

وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے


پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی

چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے


محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے

وہ دل کی سونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے


یہ خاک آلود جواں چہرے گل جن کی قسمیں کھاتے ہیں

جو آرائش پر مرتا ہو ان کی رعنائی کیا جانے


عارفؔ اپنا راز الفت یوں ہے جیسے منہ بند کلی

یہ بھید زمانہ کیا سمجھے یہ راز خدائی کیا جانے


منظور عارف


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...