یوم پیدائش 01 سپتمبر 1924
اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے
طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے
ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے
تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے
ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے
سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے
چراغ شہر نہیں ہم چراغ صحرا ہیں
کسے خبر کہ جلے اور کسے خبر نہ جلے
تری دلیل بجا پر یہ کیسے مانا جائے
شجر کو آگ لگے اور کوئی ثمر نہ جلے
شعور قرب کی یہ بھی ہے اک عجب منزل
ہم اس کو غیر کی محفل میں دیکھ کر نہ جلے
یہ شام مرگ تمنا کی شام ہے صادقؔ
کوئی چراغ کسی طاق چشم پر نہ جلے
صادق نسیم

No comments:
Post a Comment