Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

صادیق نسیم

 یوم پیدائش 01 سپتمبر 1924


اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے

طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے


ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے

تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے


ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے

سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے


چراغ شہر نہیں ہم چراغ صحرا ہیں

کسے خبر کہ جلے اور کسے خبر نہ جلے


تری دلیل بجا پر یہ کیسے مانا جائے

شجر کو آگ لگے اور کوئی ثمر نہ جلے


شعور قرب کی یہ بھی ہے اک عجب منزل

ہم اس کو غیر کی محفل میں دیکھ کر نہ جلے


یہ شام مرگ تمنا کی شام ہے صادقؔ

کوئی چراغ کسی طاق چشم پر نہ جلے


صادق نسیم


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...