Urdu Deccan

Tuesday, June 29, 2021

مسعودہ ریاض

 یوم پیدائش 27 جون

 

وقت کے جو بھی صَرفِ نظر ہو گئے

وہ پڑے راہ میں اک حجر ہو گئے


جن کی قسمت میں سوکھے شجر ہو گئے

مفلسی میں ہیں وہ بے ثمر ہو گئے


ٹھوکروں میں تھا رکھتا زمانہ جنہیں

زیر تھے جو وہ اب ہیں زبر ہو گئے


کل کے دھنوان ہیں دربدر آج کے

بگڑے حالات ایسے صفر ہو گئے


پھر مرے یار نے لی نہ میری خبر

راحَتِ جاں تھے سوزِ جگر ہو گئے


مشکلوں سے کبھی بھی نہ گھبراٸے ہم

دکھ کے آگے یوں سینہ سپر ہو گئے


کیسے مسعودہؔ غم جھیل پاٸے گی یہ

سارے اپنے پراٸے اگر ہو گئے


مسعودہؔ ریاض


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...