یوم پیدائش 27 جون
وقت کے جو بھی صَرفِ نظر ہو گئے
وہ پڑے راہ میں اک حجر ہو گئے
جن کی قسمت میں سوکھے شجر ہو گئے
مفلسی میں ہیں وہ بے ثمر ہو گئے
ٹھوکروں میں تھا رکھتا زمانہ جنہیں
زیر تھے جو وہ اب ہیں زبر ہو گئے
کل کے دھنوان ہیں دربدر آج کے
بگڑے حالات ایسے صفر ہو گئے
پھر مرے یار نے لی نہ میری خبر
راحَتِ جاں تھے سوزِ جگر ہو گئے
مشکلوں سے کبھی بھی نہ گھبراٸے ہم
دکھ کے آگے یوں سینہ سپر ہو گئے
کیسے مسعودہؔ غم جھیل پاٸے گی یہ
سارے اپنے پراٸے اگر ہو گئے
مسعودہؔ ریاض

No comments:
Post a Comment