Urdu Deccan

Tuesday, June 29, 2021

آصف شہزاد

 یوم پیدائش 26 جون 1980


مرے گیتوں سے رونے کی صدا آتی رہی پیہم

مرے زخموں کو سہلانے صبا آتی رہی پیہم


ہمیں اپنے گناہوں کی سزا ملتی رہی پیہم

ہمیں بیدار کرنے کو ہوا آتی رہی پیہم


کوئی قاسم ، کوئی خالد ، کوئی طارق نہیں ہم میں

خود اپنے آپ پر ہم کو حیا آتی رہی پیہم


تسلط غیر کا قصہ یہ سن کر ساری دنیا میں

مرے اشکوں کی آہوں کی صدا آتی رہی پیہم


گلے کٹتے رہے نیزے پہ سر چڑھتے رہے لیکن

زبانوں سے صداۓ لا اللہ آتی رہی پیہم


سیاست ہو رہی ہے آج کل بچوں کی لاشوں پر

ہمارے ساتھ ان کی بد دعا آتی رہی پیہم


مری چیخیں مرے اندر ہی گھٹ کے مر گئیں آخر

مجھے ہی لوٹ کر میری صدا آتی رہی پیم


غزل میں ڈھل گیا شہراد کا دکھ آج پھر یارو

مکاں سے اس کے غزلوں کی صدا آتی رہی پیم


آصف شہزاد


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...