تجربہ زندگی میں اک ایسا ہوا
مفلسی میں نہ کوئی بھی اپنا ہوا
رنج و غم حال دل اب سناؤں کسے
مطلبی دور ہے کون کس کا ہوا
کہہ رہے دل درختوں کے روکر یہی
جس کو سایہ دیا وہ نہ میرا ہوا
رشتے انمول ہیں پر حقیقت ہے یہ
ہر کسی کو یہاں پیارا پیسہ ہوا
زخ پہ پردہ نہیں ماسک لازم ہے اب
فیصلہ دیکھو جعفر یہ کیسا ہوا
جعفر بلرامپوری

No comments:
Post a Comment