Urdu Deccan

Thursday, June 24, 2021

جعفر بلرامپوری

 تجربہ زندگی میں اک ایسا ہوا

مفلسی میں نہ کوئی بھی اپنا ہوا


رنج و غم حال دل اب سناؤں کسے

مطلبی دور ہے کون کس کا ہوا


کہہ رہے دل درختوں کے روکر یہی

جس کو سایہ دیا وہ نہ میرا ہوا


رشتے انمول ہیں پر حقیقت ہے یہ

ہر کسی کو یہاں پیارا پیسہ ہوا


زخ پہ پردہ نہیں ماسک لازم ہے اب

فیصلہ دیکھو جعفر یہ کیسا ہوا


جعفر بلرامپوری


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...