یوم پیدائش 01 جون 1920
ہر دل جو ہے بیتاب تو ہر اک آنکھ بھری ہے
انسان پہ سچ مچ کوئی افتاد پڑی ہے
رہ رو بھی وہی اور وہی راہبری بھی
منزل کا پتہ ہے نہ کہیں راہ ملی ہے
مدت سے رہی فرش تری راہ گزر میں
تب جا کے ستاروں سے کہیں آنکھ لڑی ہے
ایسا بھی کہیں دیکھا ہے مے خانے کا دستور
ہر چشم ہے لبریز ہر اک جام تہی ہے
رخسار بہاراں پہ چمکتی ہوئی سرخی
کہتی ہے کہ گلشن میں ابھی صبح ہوئی ہے
سمجھا ہے تو ذرے کو فقط ذرۂ ناچیز
چھوٹی سی یہ دنیا ہے جو سورج سے بڑی ہے
دنیا میں کوئی اہل نظر ہی نہیں باقی
کوتاہ نگاہی ہے تری کم نظری ہے
مدہوش فضا مست ہوا ہوش کی مت پوچھ
وارفتگئ شوق ہے اک گم شدگی ہے
کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں
پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے
پھر سوچ لو اک بار ابھی وقت ہے جاویدؔ
شکوے میں کچھ اندیشۂ خاطر شکنی ہے
جاوید وششٹ

No comments:
Post a Comment