Urdu Deccan

Tuesday, June 1, 2021

جاوید وششٹ

 یوم پیدائش 01 جون 1920


ہر دل جو ہے بیتاب تو ہر اک آنکھ بھری ہے

انسان پہ سچ مچ کوئی افتاد پڑی ہے


رہ رو بھی وہی اور وہی راہبری بھی

منزل کا پتہ ہے نہ کہیں راہ ملی ہے


مدت سے رہی فرش تری راہ گزر میں

تب جا کے ستاروں سے کہیں آنکھ لڑی ہے


ایسا بھی کہیں دیکھا ہے مے خانے کا دستور

ہر چشم ہے لبریز ہر اک جام تہی ہے


رخسار بہاراں پہ چمکتی ہوئی سرخی

کہتی ہے کہ گلشن میں ابھی صبح ہوئی ہے


سمجھا ہے تو ذرے کو فقط ذرۂ ناچیز

چھوٹی سی یہ دنیا ہے جو سورج سے بڑی ہے


دنیا میں کوئی اہل نظر ہی نہیں باقی

کوتاہ نگاہی ہے تری کم نظری ہے


مدہوش فضا مست ہوا ہوش کی مت پوچھ

وارفتگئ شوق ہے اک گم شدگی ہے


کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں

پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے


پھر سوچ لو اک بار ابھی وقت ہے جاویدؔ

شکوے میں کچھ اندیشۂ خاطر شکنی ہے


جاوید وششٹ


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...