Urdu Deccan

Saturday, July 17, 2021

بسمل صابری

 یوم پیدائش 17 جولائی


وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے

عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے


وہی ستارہ شب غم کا اک ستارہ ہے

وہ اک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے


کھلی فضا کا پیامی ہوا کا باسی ہے

کہاں وہ حلقۂ دیوار و در میں رہتا ہے


جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے

وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ہے


گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا

یہ خود تعاقب شام و سحر میں رہتا ہے


مرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے

بگولہ سا جو تری رہ گزر میں رہتا ہے


نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسملؔ

ہر ایک سانس مرا اب سفر میں رہتا ہے


بسمل صابری


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...