Urdu Deccan

Monday, July 19, 2021

فنا نظامی کانپوری

 یوم پیدائش 18 جولائی 1922


دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا

گھر کو لگا کے آگ یہ مہمان جائے گا


سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میں

مجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا


اس کفر عشق سے مجھے کیوں روکتے ہو تم

ایمان والو میرا ہی ایمان جائے گا


آج اس سے میں نے شکوہ کیا تھا شرارتاً

کس کو خبر تھی اتنا برا مان جائے گا


اب اس مقام پر ہیں مری بے قراریاں

سمجھانے والا ہو کے پشیمان جائے گا


دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن 

انسان کی تلاش میں انسان جائے گا 


فنا نظامی کانپوری


گھر ہوا، گلشن ہوا، صحرا ہوا

ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا


غیرتِ اہلِ چمن کو کیا ہوا

چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا


میں تو پہنچا ٹھوکریں کھاتا ہوا

منزلوں پر خضر کا چرچا ہوا


حُسن کا چہرہ بھی ہے اُترا ہوا

آج اپنے غم کا اندازہ ہوا


غم سے نازک ضبطِ غم کی بات ہے

یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا


پرسش غم آپ رہنے دیجئے

یہ تماشا ہے مرا دیکھا ہوا


یہ عمارت تو عبادت گاہ ہے

اس جگہ اک میکدہ تھا کیا ہوا


رہتا ہے مےخانے ہی کے آس پاس

شیخ بھی ہے آدمی پہنچا ہوا​


اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں

اے فنا رہزن کو بھی صدمہ ہوا


 فنا نظامی کانپوری


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...