یوم پیدائش 18 جولائی 1922
دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا
گھر کو لگا کے آگ یہ مہمان جائے گا
سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میں
مجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا
اس کفر عشق سے مجھے کیوں روکتے ہو تم
ایمان والو میرا ہی ایمان جائے گا
آج اس سے میں نے شکوہ کیا تھا شرارتاً
کس کو خبر تھی اتنا برا مان جائے گا
اب اس مقام پر ہیں مری بے قراریاں
سمجھانے والا ہو کے پشیمان جائے گا
دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن
انسان کی تلاش میں انسان جائے گا
فنا نظامی کانپوری
گھر ہوا، گلشن ہوا، صحرا ہوا
ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا
غیرتِ اہلِ چمن کو کیا ہوا
چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا
میں تو پہنچا ٹھوکریں کھاتا ہوا
منزلوں پر خضر کا چرچا ہوا
حُسن کا چہرہ بھی ہے اُترا ہوا
آج اپنے غم کا اندازہ ہوا
غم سے نازک ضبطِ غم کی بات ہے
یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا
پرسش غم آپ رہنے دیجئے
یہ تماشا ہے مرا دیکھا ہوا
یہ عمارت تو عبادت گاہ ہے
اس جگہ اک میکدہ تھا کیا ہوا
رہتا ہے مےخانے ہی کے آس پاس
شیخ بھی ہے آدمی پہنچا ہوا
اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں
اے فنا رہزن کو بھی صدمہ ہوا
فنا نظامی کانپوری

No comments:
Post a Comment