یوم پیدائش 05 جولائی 1936
تو اپنے جیسا اچھوتا خیال دے مجھ کو
میں تیرا عکس ہوں اپنا جمال دے مجھ کو
میں ٹوٹ جاؤں گی لیکن نہ جھک سکوں گی کبھی
مجال ہے کسی پیکر میں ڈھال دے مجھ کو
میں اپنے دل سے مٹاؤں گی تیری یاد مگر
تو اپنے ذہن سے پہلے نکال دے مجھ کو
میں سنگ کوہ کی مانند ہوں نہ بکھروں گی
نہ ہو یقیں جو تجھے تو اچھال دے مجھ کو
خوشی خوشی بڑھوں کھو جاؤں تیری ہستی میں
انا کے خوف سے ثانیؔ نکال دے مجھ کو
زرینہ ثانی

No comments:
Post a Comment