Urdu Deccan

Friday, December 31, 2021

نواب مصطفی خان شیفتہ

 یوم پیدائش 27 دسمبر 1809


روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں

ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں


فرش رہ ہیں جو دل افگار ترے کوچے میں

خاک ہو رونق گلزار ترے کوچے میں


سرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں

گرم ہے موت کا بازار ترے کوچے میں


شعر بس اب نہ کہوں گا کہ کوئی پڑھتا تھا

اپنے حالی مرے اشعار ترے کوچے میں


نہ ملا ہم کو کبھی تیری گلی میں آرام

نہ ہوا ہم پہ جز آزار ترے کوچے میں


ملک الموت کے گھر کا تھا ارادہ اپنا

لے گیا شوق غلط کار ترے کوچے میں


تو ہے اور غیر کے گھر جلوہ طرازی کی ہوس

ہم ہیں اور حسرت دیدار ترے کوچے میں


ہم بھی وارستہ مزاجی کے ہیں اپنی قائل

خلد میں روح تن زار ترے کوچے میں


کیا تجاہل سے یہ کہتا ہے کہاں رہتے ہو

ترے کوچے میں ستم گار ترے کوچے میں


شیفتہؔ ایک نہ آیا تو نہ آیا کیا ہے

روز آ رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میں


نواب مصطفی خان شیفتہ


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...