Urdu Deccan

Tuesday, January 18, 2022

رومانہ رومی

 یوم پیدائش 14 جنوری 1971


خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا

گلوں نے دئے دکھ بہاروں نے لوٹا


فلاحی ریاست کا نقشہ دکھا کر

غریبوں کو سرمایہ کاروں نے لوٹا


جو اسلام کے نام پر چل رہے تھے

مزا ان سیاسی اداروں نے لوٹا


کڑے وقت پر کام آنا تھا جن کو

وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لوٹا


تجھے قاضئ شہر کیسے بتاؤں

مرا گھر مرے پہرہ داروں نے لوٹا


بظاہر تھے رہبر پس پردہ رہزن

قیادت کو امید واروں نے لوٹا


جو امداد طوفاں کے ماروں کو آئی

اسے خوب تقسیم کاروں نے لوٹا


کبھی سوچتی ہوں کہ قومی خزانہ

وضاحت طلب گوشواروں نے لوٹا


حقیقت تو یہ ہے کہ میرے وطن کو

وطن دوست تخریب کاروں نے لوٹا


تلاطم میں پہلے ہی جو لٹ چکے تھے

اے رومیؔ انہیں پھر کناروں نے لوٹا


رومانہ رومی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...