یوم پیدائش 14 جنوری 1971
خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا
گلوں نے دئے دکھ بہاروں نے لوٹا
فلاحی ریاست کا نقشہ دکھا کر
غریبوں کو سرمایہ کاروں نے لوٹا
جو اسلام کے نام پر چل رہے تھے
مزا ان سیاسی اداروں نے لوٹا
کڑے وقت پر کام آنا تھا جن کو
وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لوٹا
تجھے قاضئ شہر کیسے بتاؤں
مرا گھر مرے پہرہ داروں نے لوٹا
بظاہر تھے رہبر پس پردہ رہزن
قیادت کو امید واروں نے لوٹا
جو امداد طوفاں کے ماروں کو آئی
اسے خوب تقسیم کاروں نے لوٹا
کبھی سوچتی ہوں کہ قومی خزانہ
وضاحت طلب گوشواروں نے لوٹا
حقیقت تو یہ ہے کہ میرے وطن کو
وطن دوست تخریب کاروں نے لوٹا
تلاطم میں پہلے ہی جو لٹ چکے تھے
اے رومیؔ انہیں پھر کناروں نے لوٹا
رومانہ رومی
No comments:
Post a Comment