یوم پیدائش 14 جنوری 1860
معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتے
کہہ کے قم قبر سے مردے کو جلاتے جاتے
مرتے دم باغ مدینہ کا نظارا کرتے
دیکھ لیتے چمن خلد کو جاتے جاتے
دیکھ کر نور تجلی کو ترے دیوانے
دھجیاں دامن محشر کی اڑاتے جاتے
بن کے پروانہ مری روح نکلتی تن سے
لو جو اس شمع تجلی سے لگاتے جاتے
اک نظر دیکھتے ہی روئے محمد کی ضیا
غش پہ غش حضرت یوسف کو ہیں آتے جاتے
ہے وہ صحرائے جنوں آپ کے دیوانوں کا
حضرت خضر جہاں ٹھوکریں کھاتے جاتے
ایسا محبوب ہوا کون کہ امت کے لئے
روٹھتے آپ تو اللہ مناتے جاتے
طور پہ حضرت موسیٰ نہ کبھی جل بجھتے
آپ آنکھوں میں جو سرمہ نہ لگاتے جاتے
صف محشر میں الٰہی بہ حضور سرور
نعت پڑھ پڑھ کے یہ شہرت کی مناتے جاتے
عبد الحلیم شرر
No comments:
Post a Comment