Urdu Deccan

Tuesday, January 18, 2022

عبد الحلیم شرر


 یوم پیدائش 14 جنوری 1860


معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتے

کہہ کے قم قبر سے مردے کو جلاتے جاتے


مرتے دم باغ مدینہ کا نظارا کرتے

دیکھ لیتے چمن خلد کو جاتے جاتے


دیکھ کر نور تجلی کو ترے دیوانے

دھجیاں دامن محشر کی اڑاتے جاتے


بن کے پروانہ مری روح نکلتی تن سے

لو جو اس شمع تجلی سے لگاتے جاتے


اک نظر دیکھتے ہی روئے محمد کی ضیا

غش پہ غش حضرت یوسف کو ہیں آتے جاتے


ہے وہ صحرائے جنوں آپ کے دیوانوں کا

حضرت خضر جہاں ٹھوکریں کھاتے جاتے


ایسا محبوب ہوا کون کہ امت کے لئے

روٹھتے آپ تو اللہ مناتے جاتے


طور پہ حضرت موسیٰ نہ کبھی جل بجھتے

آپ آنکھوں میں جو سرمہ نہ لگاتے جاتے


صف محشر میں الٰہی بہ حضور سرور

نعت پڑھ پڑھ کے یہ شہرت کی مناتے جاتے


عبد الحلیم شرر

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...