Urdu Deccan

Wednesday, January 12, 2022

تنویر انجم

 یوم پیدائش 03 جنوری 1957


کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے

کبھی مزاج مہرباں وفا شعار چاہئے


جبین خود پسند کو سزائے درد یاد ہو

سر جنون کوش میں خیال دار چاہئے


فریب قرب یار ہو کہ حسرت سپردگی

کسی سبب سے دل مجھے یہ بے قرار چاہئے


غم زمانہ جب نہ ہو غم وجود ڈھونڈ لوں

کہ اک زمین جاں جو ہے وہ داغ دار چاہئے


وہ آزمائش جنوں وہ امتحان بے خودی

وہ صحبت تباہ کن پھر ایک بار چاہئے


تنویر انجم


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...