یوم پیدائش 03 جنوری 1957
کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے
کبھی مزاج مہرباں وفا شعار چاہئے
جبین خود پسند کو سزائے درد یاد ہو
سر جنون کوش میں خیال دار چاہئے
فریب قرب یار ہو کہ حسرت سپردگی
کسی سبب سے دل مجھے یہ بے قرار چاہئے
غم زمانہ جب نہ ہو غم وجود ڈھونڈ لوں
کہ اک زمین جاں جو ہے وہ داغ دار چاہئے
وہ آزمائش جنوں وہ امتحان بے خودی
وہ صحبت تباہ کن پھر ایک بار چاہئے
تنویر انجم
No comments:
Post a Comment