Urdu Deccan

Friday, February 25, 2022

برق دہلوی

 یوم وفات 09 فروری 1936


تابش حسن حجاب رخ پر نور نہیں

رخنہ گر ہو نگہ شوق تو کچھ دور نہیں


شب فرقت نظر آتے نہیں آثار سحر

اتنی ظلمت ہے رخ شمع پہ بھی نور نہیں


راز سربستۂ فطرت نہ کھلا ہے نہ کھلے

میں ہوں اس سعی میں مصروف جو مشکور نہیں


صرف نیرنگئ نظارہ ہے خود اپنا وجود

عین وحدت ہے کوئی ناظر و منظور نہیں


نظر آتا نہیں گو منزل مقصد کا نشاں

ذوق صادق یہی کہتا ہے کہ کچھ دور نہیں


برق دہلوی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...