Urdu Deccan

Wednesday, March 23, 2022

محسن شکیل

 یوم پیدائش 07 مارچ


آگہی کب یہاں پلکوں پہ سہی جاتی ہے

بات یہ شدت گریہ سے کہی جاتی ہے


ہم اسے انفس و آفاق سے رکھتے ہیں پرے

شام کوئی جو ترے غم سے تہی جاتی ہے


اک ذرا ٹھہر ابھی مہلت بے نام و نشاں

درمیاں بات کوئی ہم سے رہی جاتی ہے


گرمیٔ شوق سے پگھلی ترے دیدار کی لو

تیز ہو کر مری آنکھوں سے بہی جاتی ہے


شاخ نازک سے دم تیز ہوائے فرقت

ناتوانی کہاں پتوں کی سہی جاتی ہے


حرف انکار لکھا جس پہ ہوا نے کل تک

رہ گزر دل کی طرف آج وہی جاتی ہے


جائے جاتی نہیں ظلمت مگر اکثر محسنؔ

اک دیا اس کی طرف ہو تو یہی جاتی ہے


محسن شکیل


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...