یوم پیدائش 06 مارچ 1947
ظالم وبا کے ظلم کے آثار دیکھیے
سونے پڑے ہیں شہر کے بازار دیکھیے
آفت کی اس گھڑی میں الٰہی یہ کیا ہوا
اچھے بھلے بھی لگتے ہیں بیمار دیکھیے
اس عالمِ وبا میں ہیں مجبور کس قدر
لگتے ہیں اجنبی سے ہمیں یار دیکھیے
محفوظ اب مکان میں رہنا نہیں نصیب
گرنے لگی ہیں ٹوٹ کے دیوار دیکھیے
اخلاق اور خلوص کی صورت بدل گئی
ملتا نہیں ہے کوئی مددگار دیکھیے
جب سے پڑے ہیں خوف کے تالے دماغ پر
آتے نہیں ہیں ڈھنگ کے اشعار دیکھیے
بیچارگی کی کیسی سناتی ہیں داستاں
گنگا میں بہتی لاشوں کے انبار دیکھیے
ساجد کسی کے مرنے کی ان کو خبر نہیں
کس شان سے یہ کہتی ہے سرکار دیکھیے
سلطان احمد خان

No comments:
Post a Comment