اشک ہر وقت میرا ساتھ نبھانے نکلے
جب خوشی آئی تو خوشیوں کے بہانے نکلے
جس نے نسلوں کی سیاہی کو اجالا بخشا
چند شب زاد وہ سورج کو بجھانے نکلے
جستجو جس نے تیری عرفان دو عالم بخشا
ہم جسے ڈھونڈنے نکلے وہ سرہانے نکلے
شام سے ڈوبنے لگتا ہے جو دل تو ھم بھی
اپنے پیمانے سے خورشید اگانے نکلے
تیری الفت تیری حسرت تیری فرقت کا ملال
دل کھنڈر جب ھوا پوشیدہ خزانے نکلے
جن کو فرقت میں کبھی دیکھنے رکھ چھوڑا تھا
ان درازوں میں وہی خواب پرانے نکلے
شہر میں دشت میں گلشن میں تجھی کو پایا
اے غم یار تیرے کتنے ٹھکانے نکلے
چاند نکلا تو میں لوگوں سے لپٹ کر رویا
غم کے آنسو تھے جو خوشیوں کے بہانے نکلے
رزق میں جن کے نہ محنت کا نہ برکت کا خمیر
رزق آشوب کئی ایسے گھرانے نکلے
لوگ آسان سمجھتے ہیں غزل خواں ہونا
ہجر جھیلا ہے تو الفت کے ترانے نکلے
یاد کس کی ہوئی ہے پاوں کی زنجیر نوید
قرض جاں عشق میں ہم جب بھی چکانے نکلے

No comments:
Post a Comment