Urdu Deccan

Saturday, June 25, 2022

سید نوید جعفری

یوم پیدائش 10 جون 1968

اشک ہر وقت میرا ساتھ نبھانے نکلے
 جب خوشی آئی تو خوشیوں کے بہانے نکلے
 
 جس نے نسلوں کی سیاہی کو اجالا بخشا
  چند شب زاد وہ سورج کو بجھانے نکلے
  
جستجو جس نے تیری عرفان دو عالم بخشا
ہم جسے ڈھونڈنے نکلے وہ سرہانے نکلے

شام سے ڈوبنے لگتا ہے جو دل تو ھم بھی
اپنے پیمانے سے خورشید اگانے نکلے

تیری الفت تیری حسرت تیری فرقت کا ملال
دل کھنڈر جب ھوا پوشیدہ خزانے نکلے

جن کو فرقت میں کبھی دیکھنے رکھ چھوڑا تھا
ان درازوں میں وہی خواب پرانے نکلے

شہر میں دشت میں گلشن میں تجھی کو پایا
اے غم یار تیرے کتنے ٹھکانے نکلے

چاند نکلا تو میں لوگوں سے لپٹ کر رویا
غم کے آنسو تھے جو خوشیوں کے بہانے نکلے

رزق میں جن کے نہ محنت کا نہ برکت کا خمیر
رزق آشوب کئی ایسے گھرانے نکلے

لوگ آسان سمجھتے ہیں غزل خواں ہونا
ہجر جھیلا ہے تو الفت کے ترانے نکلے

یاد کس کی ہوئی ہے پاوں کی زنجیر نوید
قرض جاں عشق میں ہم جب بھی چکانے نکلے

 سید نوید جعفری



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...