Urdu Deccan

Thursday, July 14, 2022

مناظر عاشق ہرگانوی


یوم پیدائش 01 جولائی 1948

اس کا انداز بھی چہرہ بھی غزل جیسا ہے 
وہ پڑوسی مرا لگتا بھی غزل جیسا ہے 

دیکھنے والو اسے میری نظر سے دیکھو 
یہ مرا چاند سا منا بھی غزل جیسا ہے 

دھرم کے نام پہ یہ قتل کی سازش کچھ سوچ 
تیرے ہمسائے کا بچہ بھی غزل جیسا ہے 

حسن ایسا ہے کہ دیکھو تو لگے تاج محل 
اس پہ وہ شخص سنورتا بھی غزل جیسا ہے 

پت جھڑوں سے بھی ابھرتی ہیں بہاریں عاشقؔ 
رنگ موسم کا بدلتا بھی غزل جیسا ہے

مناظر عاشق ہرگانوی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...