یوم پیدائش 01 جولائی 1948
اس کا انداز بھی چہرہ بھی غزل جیسا ہے
وہ پڑوسی مرا لگتا بھی غزل جیسا ہے
دیکھنے والو اسے میری نظر سے دیکھو
یہ مرا چاند سا منا بھی غزل جیسا ہے
دھرم کے نام پہ یہ قتل کی سازش کچھ سوچ
تیرے ہمسائے کا بچہ بھی غزل جیسا ہے
حسن ایسا ہے کہ دیکھو تو لگے تاج محل
اس پہ وہ شخص سنورتا بھی غزل جیسا ہے
پت جھڑوں سے بھی ابھرتی ہیں بہاریں عاشقؔ
رنگ موسم کا بدلتا بھی غزل جیسا ہے
مناظر عاشق ہرگانوی

No comments:
Post a Comment