Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

سائل عمران

یوم پیدائش 08 جولائی 1993

ہر کسی آنکھ کا بدلہ ہوا منظر ہوگا 
شہر در شہر مسیحاؤں کا لشکر ہوگا 

آئنہ رو ہے اگر دل تو حفاظت کیجے 
کس کو معلوم ہے کس ہاتھ میں پتھر ہوگا 

لے کے پیغام خزاں آیا ہے میرے در پہ 
وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر ہوگا 

پھر سیاست کی مہک آنے لگی ہے مجھ کو 
جانے اب کون مرے شہر میں بے گھر ہوگا 

چھو کے دیکھو تو سہی اس میں نمی باقی ہے 
یہ جو صحرا ہے کسی وقت سمندر ہوگا

سائل عمران


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...