Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

ناظر خیامی

یوم وفات 08 جولائی 1979

مڈبھیڑ میری ہو گئی کل اک فقیر سے 
وہ بھیک مانگتا تھا ہر اک راہگیر سے 

میں نے کہا کہ بھائی ہے کیسا تمہارا حال 
کہنے لگا کہ ہے کرم رب ذو الجلال 

میں نے کہا کہ ریس بھی کھیلی کبھی کہیں 
کہنے لگا کہ ریس تو کھیلی کبھی نہیں 

میں نے کہا کہ تاشوں سے کچھ مشغلہ رہا 
کہنے لگا کہ میں نہیں کھیلا کبھی جوہ 

میں نے کہا کہ گانجا بھری سگریٹیں بھی پیں 
بولا بڑے وقار سے ہرگز کبھی نہیں 

میں کہا شراب کبھی پی ہے یا نہیں 
کہنے لگا شراب بری شے ہے بالیقیں 

میں نے کہا کہ پھر مرے گھر تک چلے چلو 
میں دس رپئے کا نوٹ ابھی دوں گا آؤ تو 

کہنے لگا یہ گھر پہ ضروری ہے کیا کرم 
دینا اگر ہے تجھ کو تو دے دے یہیں رقم 

میں نے کہا نہ عذر کرو میری بات سے 
تم کو ملاؤں گا میں شریک حیات سے 

تم سے ملا کے اپنی شریک حیات کو 
جھگڑے سے تمام ختم کروں گا اٹھو چلو 

ہے صاف صاف بات دغا ہے نہ اس میں کھوٹ 
اتنی سی بات کہہ کے میں دے دوں گا دس کا نوٹ 

بیوی کی بات کا مجھے دینا ہے اک جواب 
وہ بھیک مانگتا ہے جو پیتا نہیں شراب

ناظر خیامی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...