ہجر کا بوجھ ابھی اور اٹھانا ہے مجھے
عشق کیا چیز ہے بچوں کو بتانا ہے مجھے
میرے اندر کا خلا پُر کرے خلوت نہ رہے
ایسا اک شخص سرِ بزم بٹھانا ہے مجھے
میں ادھورا ہوں جوانی میں کمی اس کی ہے
۔یہی احساس ستم گر کودلانا ہے مجھے
نام آیا ترا چہرے پہ تبسم آیا
شرط یہ تھی کہ سر بزم ہنسانا ہے مجھے
پیار مفلس کے نصیبوں میں کہاں ہوتا ہے
اسں کو پانے کیلئے پیسہ کمانا ہے مجھے
ساری دنیا کا مجھے غم نہیں رُوٹھے بے شک
میری دنیا ہے وہی ایک منانا ہے مجھے

No comments:
Post a Comment