Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

خالد سہیل

یوم پیدائش 09 جولائی 1952

تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی 
گفتگو اتنی بڑھے گی کچھ کمی رہ جائے گی 

اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد 
آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی 

کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں 
کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی 

حرص کے طوفان میں ڈھہ جائیں گے سارے محل 
شہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گی 

چھوڑ کر مجھ کو چلے جائیں گے سارے آشنا 
صبح دم بس ایک لڑکی اجنبی رہ جائے گی 

رات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیلؔ اس آس میں 
میں تو بجھ جاؤں گا لیکن روشنی رہ جائے گی

خالد سہیل



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...