Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

شعری بھوپالی

یوم وفات 09 جولائی 1991

غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے 
کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے 

وہی نالہ وہی نغمہ بس اک تفریق لفظی ہے 
قفس کو منتشر کر دو نشیمن نام ہو جائے 

تصدق عصمت کونین اس مجذوب الفت پر 
جو ان کا غم چھپائے اور خود بد نام ہو جائے 

یہ عالم ہو تو ان کو بے حجابی کی ضرورت کیا 
نقاب اٹھنے نہ پائے اور جلوہ عام ہو جائے 

یہ میرا فیصلہ ہے آپ میرے ہو نہیں سکتے 
میں جب جانوں کہ یہ جذبہ مرا ناکام ہو جائے 

ابھی تو دل میں ہلکی سی خلش محسوس ہوتی ہے 
بہت ممکن ہے کل اس کا محبت نام ہو جائے 

جو میرا دل نہ ہو شعریؔ حریف ان کی نگاہوں کا 
تو دنیا بھر میں برپا انقلاب عام ہو جائے

شعری بھوپالی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...