Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

ہجر ناظم علی خان

یوم پیدائش 10 جولائی 1880

کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہا 
مجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہا 

کچھ سروکار نہیں جان رہے یا نہ رہے 
نہ رہا ان سے تو پھر کس سے سروکار رہا 

شب خلوت وہی حجت وہی تکرار رہی 
وہی قصہ وہی غصہ وہی انکار رہا 

طالب دید کو ظالم نے یہ لکھا خط میں 
اب قیامت پہ مرا وعدۂ دیدار رہا 

حال دل بزم میں اس شوخ سے ہم کہہ نہ سکے 
لب خاموش کی صورت لب اظہار رہا 

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے 
رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا 

اک نظر نزع میں دیکھی تھی کسی کی صورت 
مدتوں قبر میں بے چین دل زار رہا 

دل ہمارا تھا ہمارا تھا ہمارا لیکن 
ان کے قابو میں رہا ان کا طرفدار رہا 

عمر ہنس کھیل کے اس طرح گزاری اے ہجرؔ 
دوست کا دوست رہا یار کا میں یار رہا

ہجر ناظم علی خان



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...