آوے جاوے کیسے شب بھر بارش
آنکھیں سوکھی پر دل اندر بارش
ایسا بھی پھر آیا موقع یارو
باہر سناٹا ہے اندر بارش
دیکھو بھولیں آنکھیں سارے منظر
ان کو بس اب تو ہے ازبر با رش
من کا صحرا تو ہے اب بھی سوکھا
جل تھل کرتی دل دریا پر بارش
پختہ گھر پر سے تو یکسر غائب
کچے گھر کے برسے سر پر بارش
بچے خوش خوش ناچیں جھومیں گائیں
باقی دیکھیں کیسے ڈرڈر بارش
میرے دل کے صحرا کا بدلا ہے
تونے تو سارا ہی منظر بارش
اس کی یا دیں آجا تی ہیں یا رو
آنکھوں میں بن بن کر اکثر با رش
پیروں سے آ لپٹی یہ تو ظالم
میں نے مانگی تپتے سر پر بارش
بارش یوں اچھی لگتی ہے مجھ کو
آجاتی ہے چھت پر دلبر بارش
بن جائیں اک دن سارے کے سارے
امبر چندا سورج اختر بارش
اب تو امبر کا بچنا ہے مشکل
اس کے اندر بارش باہر بارش
بچ کرچل ورنہ پھر تو ڈوبے گی
امبر در یا کے تو اندر با رش

No comments:
Post a Comment