Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

مجید امبر

یوم پیدائش 10 جولائی 1961

آوے جاوے کیسے شب بھر بارش 
آنکھیں سوکھی پر دل اندر بارش 

 ایسا بھی پھر آیا موقع یارو 
باہر سناٹا ہے اندر بارش 

دیکھو بھولیں آنکھیں سارے منظر 
 ان کو بس اب تو ہے ازبر با رش 

من کا صحرا تو ہے اب بھی سوکھا 
جل تھل کرتی دل دریا پر بارش 

پختہ گھر پر سے تو یکسر غائب 
کچے گھر کے برسے سر پر بارش 

بچے خوش خوش ناچیں جھومیں گائیں 
باقی دیکھیں کیسے ڈرڈر بارش 

میرے دل کے صحرا کا بدلا ہے
تونے تو سارا ہی منظر بارش 

اس کی یا دیں آجا تی ہیں یا رو
آنکھوں میں بن بن کر اکثر با رش 

پیروں سے آ لپٹی یہ تو ظالم 
میں نے مانگی تپتے سر پر بارش 

بارش یوں اچھی لگتی ہے مجھ کو
آجاتی ہے چھت پر دلبر بارش 

بن جائیں اک دن سارے کے سارے 
امبر چندا سورج اختر بارش 

اب تو امبر کا بچنا ہے مشکل 
اس کے اندر بارش باہر بارش 

بچ کرچل ورنہ پھر تو ڈوبے گی 
امبر در یا کے تو اندر با رش

مجید امبر



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...