Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

شان مصباحی

یوم پیدائش 10 جولائی 1998

ذرا سی بات پہ آنکھیں وہ اشکبار کرے
مناوں لاکھ مگر پھر بھی ہا ہا کار کرے

سمجھ نہ پائے گا قیمت وہ عشق کی ہرگز
جو نام عشق پہ بس اپنا کاروبار کرے

میں منتظر ہوں اسی کا جو ایک مدت سے
نظر چُرا کے مرے دل کو بیقرار کرے

جو بار بار ستم کرتا ہے اسی پر کیوں
یہ نامراد بھلا اپنی جاں نثار کرے

یہ ملکیت ہے کسی اور کی مگر یارو
فقط وہ دل کا مرے خود کو دعویدار کرے

میں جس قدر ہوں ترے انتظار میں بےچین
خدا کرے کہ مرا تو بھی انتظار کرے

عزیز بن کے جو دھوکے سے زہر دیتا ہے
تو ایسے شخص پہ کیا کوئی اعتبار کرے

نہ اس طرح مرے دل کو دکھایا کر ہمدم
کہ تیرا لہجہ مرے دل کو تار تار کرے۔

بھلا سکا نہ اُسے چاہ کر بھی دل, لیکن
اُسے بھلانے کی کوشش تو بار بار کرے

خدا کی ذات پہ چھوڑا ہے اپنی ہستی کو
ڈبو دے میرا سفینہ یا پھر وہ پار کرے

تجھے اے شان سدا اس سے بچ کے رہنا ہے
جو قاتلانہ نگاہوں سے تجھ پہ وار کرے

شان مصباحی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...